ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بی جے پی لیڈر کے بھائی کے بھی پرانے نوٹ قبول کرنے سے اسپتال کا انکار؛ مینگلور اسپتال میں بی جے پی ایم پی کے بھائی کے انتقال پرپیش آیا واقعہ

بی جے پی لیڈر کے بھائی کے بھی پرانے نوٹ قبول کرنے سے اسپتال کا انکار؛ مینگلور اسپتال میں بی جے پی ایم پی کے بھائی کے انتقال پرپیش آیا واقعہ

Tue, 22 Nov 2016 20:52:25    S.O. News Service

منگلورو22/نومبر (ایس او نیوز) نئے نوٹ نہ ملنے سے عام آدمی کو جن مشکل حالات سے گزرنا پڑ رہا ہے، اس کا مزہ خود بی جے پی کے ایم پی اور سابق وزیر اعلیٰ کرناٹک اور رکن پارلیمان سدانند گوڈا کو بھی چکھنا پڑاجس پر انہوں نے اپنی سخت برہمی کا اظہار کیا اور اسپتال انتظامیہ کے خلاف کاروائی کی بھی دھمکی دی۔ 

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ سدانند گوڈاجو مرکزکی بی جے پی حکومت میں رکن پارلیمان بھی ہیں، کے بھائی بھاسکر گوڈا پچھلے کچھ دنوں سے یرقان(jaundice) کی وجہ سے منگلور کے KMCاسپتال میں زیر علاج تھے۔ علاج کارگر نہ ہونے سے جب ان کی موت واقع ہوگئی تورکن پارلیمان مسٹر سدانند گوڈا نے اسپتال کابل پرانے نوٹوں میں ادا کرنا چاہا۔ مگر اسپتال کے اسٹاف نے پرانے نوٹ لینے سے انکار کردیا۔ سدانند گوڈا نے اسپتال اسٹاف کو حکومت کی طرف سے جاری قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے قائل کرنے کی کوشش کی کہ اسپتال والوں کو پرانے نوٹ قبول کرنے کی اجازت ہے۔ مگر اسپتال والوں نے یکسر انکار کردیا۔ پریشان ہوکر سدانند گوڈا نے چیک کے ذریعے ادائیگی کرنے کا آفر دیا۔ لیکن اسپتال والوں نے چیک بھی قبول کرنے سے انکار کیا۔ اس پر سدانند گوڈا طیش میں آگئے اور انہوں نے اسپتال والوں سے مطالبہ کیا کہ وہ چیک یا پرانے نوٹوں سے بل کی ادائیگی قبول نہ کرنے کی بات انہیں لکھ کر دیں۔ اس موقع پر اسپتال عملہ اور سدانند گوڈا کے درمیان کافی بحث و تکرار ہوئی ، جس کے بعد اسپتال والوں نے بالاخر بل کی رقم چیک کے ذریعے قبول کرنا منظور کیا۔

 اس پریشان کن صورتحال سے جہاں سدانند گوڈا کے علاوہ دیگر بی جے پی لیڈر بھی برہم ہوگئے وہیں پر سدانند گوڈا نے کہا کہ وہ اسپتال کے خلاف مناسب کارروائی کی ہدایت جاری کریں گے۔

اس واقعے کے بعد عوام کے ایک بڑے طبقے کا کہنا ہے کہ مریضوں کے علاج اور اموات کی صورت میں نئی کرنسی نہ ہونے کی وجہ سے متوسط اور غریب طبقے کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، شاید اس کا اندازہ بی جے پی کے قائدین کواب جاکر ہوگیا ہوگا۔


Share: